اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمن کی تحریک انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن محمد الفرح نے سرکاری خبر رساں ایجنسی "سبا" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی حمایت میں جاری کیے جانے والے حالیہ بیانات یکطرفہ مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں اور یمنی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان بیانات کی زبان اور متن میں یکسانیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انہیں ایک مشترکہ سیاسی اور میڈیا حکمت عملی کے تحت تیار کیا گیا ہے اور یہ آزادانہ مؤقف کی بجائے امریکہ اور سعودی عرب کے بیانیے کی تکرار ہیں۔
محمد الفرح نے یمن کے خلاف جاری محاصرے کا حوالہ دیتے ہوئے سعودی عرب کے حامی ممالک سے سوال کیا کہ اگر ان کے اپنے ملک کے ہوائی اڈے، بندرگاہیں اور خودمختار فیصلے کسی بیرونی طاقت کے کنٹرول میں ہوں تو کیا وہ اسے قبول کریں گے؟
انہوں نے کہا کہ قومی خودمختاری، آزادی، نقل و حرکت کی آزادی، محاصرے کے خاتمے اور غیر ملکی مداخلت کے خاتمے کا مطالبہ ہر قوم کا جائز اور ناقابلِ سلب حق ہے۔
انصار اللہ کے رہنما نے علاقائی ممالک پر زور دیا کہ وہ سعودی عرب کی پالیسیوں کی حمایت کرنے کے بجائے ریاض کو یمن کے خلاف جنگ ختم کرنے، ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کا محاصرہ اٹھانے، اپنی افواج یمن سے واپس بلانے، یمن کی خودمختاری کا احترام کرنے اور یمنی قیدیوں کی رہائی کے لیے اقدامات کرنے پر آمادہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ یمنی عوام اپنے جائز حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے اور جانبدارانہ بیانات ان کے مطالبات یا زمینی حقائق کو تبدیل نہیں کر سکتے۔
آپ کا تبصرہ